Sunday, 28 June 2026

غزل - سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے

 غزل - سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے


سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے

قدموں میں جان اب تک ہے اِک سراب سے


ساعت ہر اِک کڑی ہے زنجیرِ وقت میں

بڑھتے مِرے سلاسل ہیں اس حساب سے


تُو ہی بہار میرے گلشن کی تُو خِزاں

خوشبو ہے یا نکلتی ہے جاں گُلاب سے


تم سے جدا ہوئے کیا خود سے بھی کٹ گئے

جیسے یہ دن بُریدہ ہے شب کے خواب سے


کیا آگ تھی قفس میں اب جا کے جو بُجھی

پر جب جلا لیے ہم نے آفتاب سے


باگوں میں ہاتھ جکڑے ہی سب سفر کیا

افسوس پاوں تک نہ نکلا رکاب سے


سر کو جھکا کے ہم نے کاٹے ہیں کتنے سر

حرصِ انعام میں یا خوفِ عتاب سے


کیوں خون کُچھ کا سستا ہے کُچھ کی گرد سے

یہ مسئلہ ہے اوپر علم الکتاب سے


ہم پر ہیں جو مسلّط، آثار اُنکے اب

طوفاں کی لہر پر ٹھہرے اک حباب سے



کیا حشر عُمر بھر تھا سر پر خلشؔ سوار

کتنے عذاب کھینچے پہلے عذاب سے


-خلشؔ مخفی

غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب

  غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب وہ گریزاں سا افق رُخِ فردا کا فریب نہ برس ریگ پہ ابر تُو ہی چھاو...