غزل - سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے
سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے
قدموں میں جان اب تک ہے اِک سراب سے
سر کو جھکا کے ہم نے کاٹے ہیں کتنے سر
حرصِ انعام میں یا خوفِ عتاب سے
کیوں خون کُچھ کا سستا ہے کُچھ کی گرد سے
یہ مسئلہ ہے اوپر علم الکتاب سے
ساعت ہر اِک کڑی ہے زنجیرِ وقت میں
بڑھتے مِرے سلاسل ہیں اس حساب سے
باگوں میں ہاتھ جکڑے ہی سب سفر کیا
افسوس پاوں تک نہ نکلا رکاب سے
کیا آگ تھی قفس میں اب جا کے جو بُجھی
پر جب جلا لیے ہم نے آفتاب سے
ہم پر ہیں جو مسلّط، آثار اُنکے اب
طوفاں کی لہر پر ٹھہرے اک حباب سے
تُو ہی بہار میرے گلشن کی تُو خِزاں
خوشبو ہے یا نکلتی ہے جاں گُلاب سے
تم سے جدا ہوئے کیا خود سے بھی کٹ گئے
جیسے یہ دن بُریدہ ہے شب کے خواب سے
کیا حشر عُمر بھر تھا سر پر خلشؔ سوار
کتنے عذاب کھینچے پہلے عذاب سے
-خلشؔ مخفی