Saturday, 22 August 2026

غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب

 غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب


ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب

وہ گریزاں سا افق رُخِ فردا کا فریب


نہ برس ریگ پہ ابر تُو ہی چھاوں ہے میری

کہ ہے لیلیٰ سے بھلا کبھی لیلیٰ کا فریب


تِرے جانے سے وہ دل کی تجلّی بھی گئی

نہ ہوا پھر ہمیں وادیِ سِینا کا فریب


یہ بہاریں یہ خزائیں کریں سجدہ تجھے

تِرے دم ہی سے تو ہے گُلِ رعنا کا فریب


دلِ گُم گشتہ ہے ڈھونڈھتا وہ بات کہ جو

نہ رکھے لفظوں کے پیچ نہ معنیٰ کا فریب


وہی ساقی، وہی جام تو کیوں تشنہ ہیں ہم 

نظرِ یار سے ہی خُم و مینا کا فریب


سرِ آدم کو جھُکانے کے حربے ہیں یہ سب

کبھی حاکم کا عصا کبھی مُلّا کا فریب


شبِ تیرہ ہے کہ سایہ تِری زلف کا ہے

سحرِ وصل ہے بسکہ تمنّا کا فریب


نہ بھرو زخم مِرے یہ خزینہ ہیں  مِرا

مُجھے رکھ لینے دو اپنے مسیحا کا فریب


جو پرندے  پسِ شام نہ گھر لوٹیں خلشؔ

وہی رکھتے ہیں جواں من و سلویٰ کا فریب


-خلشؔ مخفی

Saturday, 4 July 2026

غزل - ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے

 غزل - ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے

ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے

کیا کچھ ہے یہ دیکھتا کہ دل ہے


کیوں عقل و نظر کے ہم ہیں محتاج

آ سینے کے اندر آ  کہ دل ہے


صحرا میں بھی دیکھے موجِ دریا

پر بحر میں تشنہ سا کہ دل ہے


ہاتھوں میں حَسیں کے چابُکِ ناز

اِتنا بھی نہ آزما کہ دل ہے


اُٹھتا ہے دمِ سحر جو شعلہ

اب جا کے پتہ چلا کہ دل ہے


اُلفت کی سکت رہی نہ اِس میں

بھر بھر کے یہ پھٹ گیا کہ دل ہے


کیوں رویا خلشؔ کسی کے دُکھ میں

اتنا ہی وہ کہہ سکا کہ دل ہے


-خلشؔ مخفی


فرہنگ

- جامِ جہاں نما:  دنیا دکھانے والا پیالہ۔  ایران کے بادشاہ جمشید کا پیالہ جس میں احوال عالم کا مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔
legendary magical goblet of the Persian king Jamshed in which he saw whatever he wished
بحر : دریا، سمندر، خلیج، کھاڑی
تشنہ:  پیاسا/پیاسی

Sunday, 28 June 2026

غزل - سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے

 غزل - سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے


سائل ہوں اور ڈرتا بھی ہوں جواب سے

قدموں میں جان اب تک ہے اِک سراب سے


ساعت ہر اِک کڑی ہے زنجیرِ وقت میں

بڑھتے مِرے سلاسل ہیں اس حساب سے


تُو ہی بہار میرے گلشن کی تُو خِزاں

خوشبو ہے یا نکلتی ہے جاں گُلاب سے


تم سے جدا ہوئے کیا خود سے بھی کٹ گئے

جیسے یہ دن بُریدہ ہے شب کے خواب سے


کیا آگ تھی قفس میں اب جا کے جو بُجھی

پر جب جلا لیے ہم نے آفتاب سے


باگوں میں ہاتھ جکڑے ہی سب سفر کیا

افسوس پاوں تک نہ نکلا رکاب سے


سر کو جھکا کے ہم نے کاٹے ہیں کتنے سر

حرصِ انعام میں یا خوفِ عتاب سے


کیوں خون کُچھ کا سستا ہے کُچھ کی گرد سے

یہ مسئلہ ہے اوپر علم الکتاب سے


ہم پر ہیں جو مسلّط، آثار اُنکے اب

طوفاں کی لہر پر ٹھہرے اک حباب سے



کیا حشر عُمر بھر تھا سر پر خلشؔ سوار

کتنے عذاب کھینچے پہلے عذاب سے


-خلشؔ مخفی

غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب

  غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب وہ گریزاں سا افق رُخِ فردا کا فریب نہ برس ریگ پہ ابر تُو ہی چھاو...