Showing posts with label mukhfee. Show all posts
Showing posts with label mukhfee. Show all posts

Thursday, 12 February 2026

غزل - ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں ستارے جیسے

 غزل - ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں


ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں ستارے جیسے

ڈھونڈھتے ہیں کسی مہ رُخ کو تمہارے جیسے


شمع تو لیتی ہے دم صبح کی آمد پر روز

کچھ کہ دن میں بھی رہیں جلتے ہمارے جیسے


یاد آتی ہے گھڑی تجھ سے بچھڑنے کی ہائے

حشر کے بعد کوئی صُور پکارے جیسے


بھوک بے قابو انا حد سے بڑھ کر انکی

ہے یہ فرعون کا ہی نام "ادارے" جیسے


عشق گرداب ہے ایسا کہ طوافِ یاراں

کی تگ و دَو میں ہیں حائل یہ کنارے جیسے


بوئے گُل، سوزِشِ دل، موج کو ترسا ساحِل

بس بہانے ہیں تِری یاد کے سارے جیسے


کچھ محبّت کی رمق اُس میں ہے باقی دیکھو

سر قلم کر کے مِری زلف سنوارے جیسے


قرض اشکوں کا تھا آہیں بھی خلشؔ تھیں واجب

ہم نے مر کر ہیں وہ احسان اتارے جیسے


-خلشؔ مخفی

Sunday, 21 December 2025

غزل - سعی سے نہ ہی کچھ دعا سے ملا

 غزل - سعی سے نہ ہی کچھ دعا سے ملا


سعی سے نہ ہی کچھ دعا سے ملا

جنوں کی جو اس انتہا سے ملا


نہ قابل رہا پھر کسی بزم کے

جو خلوت میں اس  کج ادا سے ملا


بس اک پھونک میں شمع گل ہو گئی

دھواں سا ہی مہر و وفا سے ملا


سدا ایک دھُن پر جو ناچے انھیں

ہے کیا "تو کُجا من کُجا" سے ملا


یہ آتش یہ ایندھن یہ زادِ سفر

خطا سے، پھر اسکی سزا سے ملا


سرِ بسترِ مرگ آیا نظر

کفن ہم کو جس کی عطا سے ملا


وہ  ملبے تلے تر بتر خوں سے طِفل

عجب امتحاں تھا خُدا سے ملا


بغل گیر اُن سے خلشؔ جب ہُوئے

بدن آخر اپنی قَبا سے ملا


-خلشؔ مخفی

Friday, 7 November 2025

چُھو بھی لو

 چُھو بھی لو

چُھو بھی لو نا
دل کے زنگ خوردہ  تار
نہیں جن کو برسوں سے چھیڑا
چُھو بھی لو نا
آنسوؤں کی پھُوار
نہیں گالوں سے جو شناسا

اک خراش سی
آئی دل پر کبھی
کسی کونے میں جسے دبایا
وہ بچہ شاید
رہ گیا تھا وہیں
اسی چوٹ کو ڈھانپے بیٹھا

صدا اسکو دو نا
رہا کر بھی دو نا
چُھو بھی لو، اب چُھو بھی لو نا

-خلشؔ مخفی

Monday, 15 September 2025

نظم: تکرارِ بے جا

 تکرارِ بے جا

نئی صبح، ایک اور ہفتہ
گریں پلکیں، ذہن گرفتہ
نیا اِک دن تو ہے یہ بالکل
ہے پھر گو عکسِ روزِ رفتہ

بھلا کاج میں ندرت و معنی کیسے
مزے جیسا احساسِ لا یعنی کیسے
دھواں ہو کسی آگ کو جو بجھا کر
ندی میں وہ بہتا رہے پانی کیسے

زمین و زر کا پھر کریں کیا
خلاء میں روح کے بھریں کیا
مشقّت سالوں سال کر کے
مِلے فرصت تو پھر ڈریں کیا؟

رواں زر ہی سے قافِلہ زندگی کا
نہیں فکر کہ گھر میں کوئی ہے بھوکا
اگر  پیٹ خالی ہو یا چھت ٹپکتی
خلاء چھوڑو ہم روح کا کر لیں سودا

یہ روح و جسم میں دوئی کیوں
کرائے پر ہے آدمی کیوں
جو پتھّر تھا دھکیلا اوپر
پڑا ہے قبر پر وہی کیوں

شرر لمحہ بھر کا ہی تو اپنی جاں ہے
جو ہو وقفِ آتش تو اسکی اماں ہے
پتنگے کی تکرار کا راز آخر
 کشش شمع کی یا جو شعلہ نہاں ہے

-خلشؔ مخفی

Friday, 22 August 2025

قتلِ خواب

 قتلِ خواب

سب خواب ہوں سچ یہ ضروری تو نہیں

کھو کر محبّت بھی ادھوری تو نہیں

ہاں، دو قدم ہی چل سکے اک ساتھ ہم

وہ اک سفر تھا زیست پوری تو نہیں


ارمانوں کی جن کرچیوں پر ہم چلے

کیوں داغ وہ اب تک ہیں یوں پاوں تلے

دل جل بجھا نہ راکھ میں کوئی شرر

یہ آگ پھر ایندھن بنا کیسے جلے


جب یاد کی شبنم ترے رخسار پر

چپکے سے آ جائے شبِ غم کے پہر

دھڑکن میں جب ہو اک کھٹک سی دم بدم

رخ موڑ کر تب ڈھونڈھنا روشن سحر


ان عقل کے پردوں کو آخر چیر کے

تہ خانے میں دل کے اگر پھر آ سکے

بھٹکی ہوئی ماہِ جنوں کی اک کرن

پسپا خرد جس سے ہو، نہ ہی دل رہے۔ 


-خلشؔ مخفی

Saturday, 10 May 2025

ایک سفر

ایک سفر

[۱]

ساکت تھا کھڑا انتظار میں
کہ جانے وہ گاڑی کب آئے
کِسی طرح جو مجھے منزل تک پہنچائے
جیسے کوئی شے  ہو بازار میں
کسی گھر میں جا پہنچنے کا ارمان لگائے

ہر گزرتا لمحہ 
گھڑی سے اتر کر جیسے
بن کر ایک بھاری پتھر سا
میرے کاندھوں پر دھر جائے۔
میری دھڑکن کی دھمک
متواتر ضرب کسی کیل پر
جو ہر چوٹ کے ساتھ
اُسے اور اندر دھنستی جائے

کتنے ہی لوگ میرے سامنے
روانہِ سفر ہوئے
تھی معلوم جنھیں اپنی راہ
لگائی جنھوں نے وہ بے باک جست
پاتے ہیں خود کو اب
منزل سے قریب تر

میں ہوں لیکن غریقِ تفکیر ابھی
پسِ پردہ ہے مجھ سے
نوشتئہ تقدیر ابھی
پاوَں منجمد ہیں لیکن
زیرِ پا ایک لو بھی
ہمّت ہے ڈگمگاتی مگر
اندر ایک آرذوئے نو بھی

یہیں پھنسے رہ جانے کا خوف بھی ہے
اور غلط سمت میں چل نکلنے کا اندیشہ بھی
صحیح سمت بھلا ہے کون سی؟
کیا اُس کا کوئی نشان، کوئی سراغ ہو گا؟
کیا میری یہ نظر
سکوت کی عادی،
یکسانیت کی پروردہ
دورانِ سفر اُس کو دیکھ پائے گی؟

انتظار و فکر کے گرداب میں
حرکت کے لیے اضطراب میں
(تھا موقع کھو دینے کا ڈر
سو ساتھیوں کی روِش کے تابع ہو کر)
دیکھی جس کے لیے سب سے لمبی قطار
اُسی گاڑی پر ہو کر سوار
کر لیا میں نے حاصل
اپنے سکوت سے فرار!

[۲]

تدبیر میری تھی 
یا کچھ تقاضا "شوخئ تحریر" کا
مِل گئی کھڑکی والی نشست مجھے
بہار کی نرم دھوپ
میرے چہرے کو سہلاتی ہوئی
جیسے کِسی کمزور حِیلے سے ماں
طفلِ پریشاں کو بہلاتی ہوئی

ہوا کا ایک مستقل جھرنا
لاتا ہے کوئی  پیغام میری منزل سے
اِک مانوس سی خوشبو، ایک ندائے دلگیر
دل میں نقش ہوتی ہوئی  دھندلی سی اِک تصویر

مگر یہ ایک موڑ جو لیا گاڑی نے
سورج پلٹ گیا یک لخت میرے پیچھے
ہوا اب جوش سے خالی
محض اطراف پر ہٹتی ہوئی
اور یہ نام اِن اسٹیشنوں کے
کتنے اجنبی۔۔
زباں پر چُبھن سی چھوڑ جاتے ہیں۔
پر کیا اجنبیّت ہے دلیل  کج راہی کی
یا طَے ہے اِس سے کم از کم
 مِرے فرار کی کامیابی؟

کیا یہ میری راہِ منزل ہے؟
ایک ہمسفر سے جو پوچھا
نکلا وہ ناواقف میری زباں سے
ہزار کوشش کے باوجود
الفاظ ہمارے تھے معلق ہوا میں
ہمارے درمیان خلیج کو وسیع کرتے
دیواروں سے ٹکراتے،
خاموشی سے مرتے

[۳]

سورج کی سمت
کبھی میری طرف، کبھی مخالف
کھڑکی سے نظّارہ
کبھی کِشتِ سرسبز، کبھی میدانِ ویراں

کیسی تکرار ہے اِس ردّ و بدل میں
گویا یہ پٹڑی ہے ایک بڑا سا دائرہ
جس پر ہر شخص
اتر جاتا ہے ٹھیک صحیح جگہ
پا کر کچھ ان دیکھے اشارے،
کسی اندرونی قوّت کے سہارے
جو ہے تحت الشّعور، بالائے حواس
جس سے ہیں زندہ و قائم
حصولِ منزل کی آس
اور یہ سلسلہِ دائم

دل پہ چھائی ہے پھر ایک بار
وہی کپکپی، وہی بے یقینی
جو دورانِ انتظار تھی
جو تب وجہِ خلفشار تھی

بس ایک چھلانگ
مٹا سکتی ہے اِس سراسیمگی کو۔
مگر اب تو کسی اور گاڑی کا
امکان بھی نہ ہو گا
اور نہ سکّت ہے ایک نئے سفر کی
جنوں گُزِیدہ گر نہ ہو آدمی
تو کیا فکر ناکامی و ظفر کی

-خلشؔ مخفی

فرہنگ

جست: چھلانگ
خلفشار: کشمکش، الجھن، پیچ و تاب
کَج راہی: غلط راہ پر چلنا۔ٹیڑھے راستے پر چلنا۔ [کَج: ٹیرھا]
سراسیمگی: اِنتشار، دیوانگی کی کیفیَت، پریشانی۔
 گُزِیدہ: [۱] کاٹا ہوا۔ ڈسا ہوا۔ [۲] چُنا ہوا، پسند کیا ہوا

Friday, 6 September 2024

جمود

کل اور آج میں رہے جب نہ کوئی فرق
سائے میں شام کے اُمنگِ نو روز غرق
                                اِک دائرہَ دائم میں جب قافلہَ حیات چلے
                                شوق و جستجو ختم، بس مقلّدِ عادات چلے
رکھیے گُلِ سوزاں سے بھلا کیا اُمیدِ عرق

گمان تھا شامِ طویل "مگر شام ہی تو ہے"
اب  آسمانِ روشن بس اِک گام ہی تو ہے
                                وہ بوندیں اوس کی چمکتی تھی جِن میں شعاعِ اُمّید
                                یوں لے اُڑا فقط اِک پرتوئے خورشید
یہ الوداعِ شب و آمدِ سَحر، سب اِک دام ہی تو ہے

بوجھ انکہی تلخیوں کا اُٹھائے جاتے ہیں
دل شکنی کے ڈر سے دل کو بجھائے جاتے ہیں
                                دیدِ دلبر محض نشاطِ پارینہ کا نشان
                                اِس حشر سے پہلے بھی تھی اِک مسرّت کی آن
لحد میں ہوں کیڑے، باہر پھول سجائے جاتے ہیں

-خلشؔ مخفی

فرہنگ

نو روز: نیا دن
 دائم: ہمیشہ قایم یا موجود رہنے والا
مقلّد: بغیر دلیل کے  پیروی کرنے والا
سوزاں: جلنے والا، جلا ہوا، جلتا ہوا، بھڑکتا ہوا
 گام:  دونوں پاؤں کے درمیان کا فاصلہ، مراد: آدھ گز کا فاصلہ؛ (مجازاََ) بہت کم فاصلہ۔
پرتوئے خورشید: سورج کی روشنی، شعاع، یا جھلک۔
دام: جال ، پھندا .( تصوّف) دام گرفتاریْ عِشق کو کہتے ہیں۔
نشاط:خوشی ، شادمانی۔ کیف و سرور 
پارینہ: گزرا ہوا ، قدیم
لحد: قبر کا وہ حصّہ جس میں مردہ رکھاجاتا ہے۔ قبر، مزار

Wednesday, 4 September 2024

ایک دوست کی سالگرہ پر

اے میرے رفیقِ دیرینہ
تِری چشمِ بینا ہو نم کبھی نہ
تیری بزم میں رہے سدا قائم
گردشِ خُم و ساغر و مِینا
طمانیت  مِلے  تجھےصوفیا سی
دانش تِری ہو رشکِ ابنِ سینا

صد مبارک یومِ  پیدائش
تیری آمد جہاں کی آرائش
دعا گو ہوں تُو پائے وہ خزانہ
جو نہیں محتاجِ بازار و نمائش
زندگی تِری ہو رنگ و نکہت سے پُر یوں
کہ اہلِ جنّت بھی کریں ستائش۔

-خلشؔ مخفی

Tuesday, 3 September 2024

تدفین

تدفین

 کبھی جو گِرتی تھی بارش

                     اِک نو عمر کَلی کے رخسار پر

کرتی ہے بے محابا اب

                     اِس  گورِ گُل کو بھی تر


بوندیں جو سجتی تھیں کبھی 

جھُومر کی طرح جبینِ ناز پر

                      (چمک جس کی تھی وہ برق کہ جلا ڈالے

                     ہر خوابِ جوانی سے مخمور آنکھ کو!)

مرتکز ہیں اب فقط دلدلی قبر پر

اس کی گہرائی اور گرفت میں

 موزوں اِضافہ کیے جاتی ہیں

                     اِک وحشتِ آسمانی سے

                      کس بے رحم روانی سے

وقت گزیدہ جو ہے اُس کا

قِلّتِ وقت مقدّر کیے جاتی ہیں


نہیں اِس  پیکرِ بے جاں میں اب

                     سکّتِ نشو نُما نہ سہی

ہر ذی نفس پر مُسَلّط بھونڈے قاعدے سے

                     نہیں یہ ماورا*  نہ سہی

پر انجام ایسا کہ آغاز پہ شرم آئے؟

                     ہر جُملہَ توصیفی پہ

                     ہر بوسہَ تقدیسی پہ

بادِ سحر بھی بس اب خاک اُڑاتی جائے

پھر "کہاں سے، کِس سبو سے کاسئہ  پیری میں مَے آئے"**

-خلشؔ مخفی

فرہنگ

رخسار: گال، (مجازاً)  چہرہ 

بے محابا: بے خوف، بے دھڑک، بلا لحاظ

 گورِ گُل: پھول کی قبر

مخمور:  نشے میں چور، مست، مدہوش

مرتکز: برقرار،  ثابت، زیادہ طاقت ور ، concentrated

 وقت گزیدہ: وقت کا{/کی} ڈسا ہوا{/ڈسی ہوئی}، کاٹا ہوا{/کاٹی ہوئی}

 ذی نفسزندگی رکھنے والا/والی

ماورا: پرے، باہر

 توصیفی: {صِفَت} تعریف یا خوبیاں بیان کرنے والا/والی

تقدیسی: {صِفَت}  پاکیزگی یا پاکیزہ  بنانے سے متعلق

باد: ہوا

سحر: طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت

نوٹ

* جناب ن۔ م۔ راشد کی پہلی کتاب کا عنوان۔

** جناب ن-م- راشد کی نظم "سبا ویراں" کا آخری مصرع۔

قہر

 دل و روح و جاں سے کہو

فراق زدہ جگرِ سوزاں سے کہو

اک ذرّہِ محبّت بھی گر ہے باقی

خواہ بُریدہ زباں سے کہو


کہو دید مِری ہے طلوعِ آفتابِ دِگر

تیز دھڑکن کی میری سماعت منتظَر

روح پُر احساس، بدن محتاجِ مساس

اِک بوسہِ عشق بھاری شب ہائے قدر پر


نظر و صدا کی شِدّت نہ باقی

لمس میں ذرا بھی حِدّت نہ باقی

ماضی بابِ سیاہ ٹھہرا اورحال میں

کچھ بھی اِمکانِ جِدّت نہ باقی


کیسی محبّت کہ دُوری باعثِ تسکیں

کیا عشق جب خلشِ وصل ہی نہیں

لعنت سکوں پر جو ہو محبوب کے سوا

قہر دل پر جو آشنائے دھڑکنِ دلبر نہیں۔


-خلشؔ مخفی

فرہنگ

جگرِ سوزاں: جلتا ہوا جگر
بُریدہ : کٹا ہوا/کٹی ہوئی
طلوعِ آفتابِ دِگر: دوسرا طلوعِ آفتاب (sunrise)
منتظَر: جِس کا انتظار کیا جا رہا ہو۔
مساس: ہاتھ سے چھونا، مس کرنا
لمس:  کسی چیز کو ہاتھ وغیرہ سے چھونے کا عمل یا کیفیت


Thursday, 22 August 2024

ہزل بنام ایک حسینہ

پیش لفط

ہزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں مزاحیہ یا مسخرے پن کے مضامین ہوں۔ عموماََ اِسے بے ہودہ کلام یا باتوں کی صنف کہا جاتا ہے۔ اِس لیے اِس  میں یاوہ گوئی اور لغویات کا عنصر غالب رہتا ہے۔ اِس نظم میں جو بظاہر عورت مخالف   (misogynist) تراکیب ہیں وہ اصل میں شاعر یا مشاہدہ کرنے والے پر مذاق ہیں، نہ کہ اُس (فرضی) خاتون پر جسکا تذکرہ ہو رہا ہے۔

ہزل

جو غور سے تو دیکھ لے آئینہ ایک بار
تو کر دے ٹکڑے اس کے اک ہزار

ان کِرچیوں کو پھِر تو چشمِ گنہگار میں
کھبوئے تا روزِ حشر دیوانہ وار 

کہ آئینہ ہے محض عاکسِ ہو بہو
اُف، ظلمتِ مطلق پر یہ ضیائے خاردار!

پس بھرے سوجے ہوئے ترے رخسار
اور ان پے پھنسیاں یہ بے شمار!

ہر عضو ہی ترا،ہے چربی سے لدا
جو دیکھے سو حیران، جو پائے وہ زدِ بھار

ان کٹے گیسو تیرے مانندِ رَپُنزَل
بس وہ اسیرِ قلعہ، تُو قلعے کی دیوار!

عریاں ہوئے بازو ترے، کپکا میں اس قدر
لوتھڑے ہیں گوشت کے یا چربی کے کوہسار!

تناسب ترے بدن کا بھی محیّرالعقل
کھوپڑی اور دهڑ ترے شبیہِ ڈائناسار

کیا وقعت دوپٹہ و چادر و شال کی
ترے عظیم جُثّے کے آگے سبھی لاچار

چادر تری ہمیشہ پشت پر پڑی
فیشن هے یا حسنِ 'بے پناہ' پر حصار؟

روتی فقط ہزاروں سال ہے اقبال کی نرگس
تری بے نوری سے کیا دیدہ ور بھی ہے بیزار؟

فرہنگ

عاکسِ ہو بہو: جیسا ہے بالکل ویسے ہی اُسکا عکس دکھانے والا
ظلمتِ مطلق: مکمّل اندھیرا ، (absolute darkness)
 ضیائے خاردار: کانٹوں والی روشنی
رَپُنزَل: ایک شہزادی جسکے بال لمبے تھے اور اُسے ایک قلعے میں قید کر دیا گیا تھا۔Rapunzel - Wikipedia
محیّرالعقل: عقل کو حیران کر دینے والا/والی
شَبِیہ: مثل، نظیر، ہم شکل
 جُثّہ: جسامت، بدن، تن
حصار: دائرہ، گھیرا، حلقہ

Tuesday, 20 August 2024

روبروئے آئینہ

کیا ہے تُو، کیا ہے بساط تیری
دم کشی سے پُر ہے ہر دن، ہر رات تیری
عقلِ ناقص اور غرور اُس پر ہیں کُل ذات تیری
جب وجود ہی تِرا ہے دلیلِ مات تیری
                      تیری حیثیت اِک حرفِ مکرر سے زیادہ کیا ہے
                     ہزاروں مہروں میں ایک تجھ سا پیادہ کیا ہے

تیرا عالم تو ہے ایسے سنگ تراش سا
خام ہے فن جس کا، ہاتھوں میں ارتعاش سا
بناکر بُت ہائے سرنگوں، دے  خود کو فریبِ فاش سا
اِک شعاعِ حق مگر کر دے یہ مندر پاش پاش سا
                    ترس آتا ہے چشمِ خود بین و زبانِ خود پرست پر
                    فقط اپنے ہاتھ کی بیت خلیفہَ خدا کے دست پر

تُو مثلِ مینڈک جائے ایک پتّے سے دوسرے پر
کہیں ٹھہرے دو گھڑی، کہیں بس پل بھر
تیری آتش کہ پلٹتی جائے سوئے دِگر
زنجیر پھر تِری بھلا پگھلے کیونکر
                    بھنورے کا حِرص نہیں، پروانے کی لگن چاہئیے
                    تخیّلِ مضطرب کو استقامت کا پیرہن چاہئیے

وہی دھکیلنا صبح کو بس شام کی طرف
تنِ سُست سے عاجز، چشمِ تماشائی کے ہاتھوں صَرف
نہ روح غذا پائے، نہ ذہن اِک فکر انگیز حرف
عرصہ سے جمود ہے طاری، نہ پگھلے یہ برف
                    جبلِ آتش فشاں تھا وجودِ بوسیدہ ہوا
                    یوں ہی طفلِ توانا پیرِ عمر رسیدہ ہوا

-خلشؔ مخفی

فرہنگ

بساط: ۱:طاقت، استطاعت، حیثیت۔ ۲: شطرنج کھیلنے کا تختہ۔ ۳:  اصل، حقیقت
دم کَشی: سان٘س لینے کا عمل، سان٘س کے اوپر چڑھنے کی کیفیت
دم کُشی: دم مارنہ مارنا یعنی سانس ضائع کرنا، (حقّے وغیرہ کا) کش لگانا، عذر/بہانہ کرنا
 ارتعاش: رعشہ، کپکی، بے اختیار لرزش
فاش: ظاہر، کھلم کھلا،اعلانیہ
چشمِ خود بین: اپنے آپ کہ دیکھنے والی آنکھ
کیونکر: کیسے
مضطرب: بے چین، درہم برہم
استقامت:  ثابت قدمی
صَرف: ۱:  خرچ ، استعمال۔ ۲:  تمام ، ختم ، بسر
عمر رسیدہ: عمر کا مارا ہوا

جستجو

کیا عذابِ پیہم ہے جستجوئے نشاط
اضدادِ فطرت میں یہ کاوشِ اختلاط
گُلِ اِمروز کو خارِ فردا میں بدلتے دیکھیے
اور کیجیے عقلِ متغیّر سے تغیّر پر استنباط

اِک زمانہ ہوا دیکھا تھا فلکِ پُر نجوم
دُود و غبارِ ہستی میں جو اب ہے موہوم
طرارہَ رخشِ زیست کو دُور سے سراہیے
شکوہَ قلّتِ وقت و جاں میں زندگی معدوم

ذہنِ مضطرب کی جستِ دو جہاں چشم زدن میں
طلاطمِ افکار اور برق سی بدن میں
آسودگیِ غیر و خود  فقط براہِ فریب
گر چشم و گوش تابع تو انساں ہے عدن میں

کہتے ہیں ضرورت ہے مادرِ ایجاد مگر
وہی ہے باعثِ مفلوجی و ضرر
اِن بانجھ ضروریات والوں پربھی  اِک نظر 
ایک بارِ جامد، بڑھتا ہوا، مستقل سینوں پر

پھر ایک ہے راہِ تصوّف و سپردگی
کریں  ترکِ آرذو، پائیں فرار از افسردگی
عجب لذّت ہے اس ذاتِ سنگین کی فنا میں
کیا لطف مگر آرام کا، گر نہیں  زخم خوردگی

-خلشؔ مخفی

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...