نظم: تجدیدِ الفت
زندگی کے سبھی زیر و بم
ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم
ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو
ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو
دل میں گوشہ مگر ہے وہی
لَو ہے کم خواہ، ہے تو سہی
آ کہ تجدیدِ الفت کریں
تلخیاں سب بھی رخصت کریں
-خلشؔ مخفی
My fiction and non-fiction prose in English ناچیز کی اردو شاعری سے طبع آزمائی کے کچھ ثمرات۔
زندگی کے سبھی زیر و بم
ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم
ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو
ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو
دل میں گوشہ مگر ہے وہی
لَو ہے کم خواہ، ہے تو سہی
آ کہ تجدیدِ الفت کریں
تلخیاں سب بھی رخصت کریں
-خلشؔ مخفی
ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں ستارے جیسے
ڈھونڈھتے ہیں کسی مہ رُخ کو تمہارے جیسے
شمع تو لیتی ہے دم صبح کی آمد پر روز
کچھ کہ دن میں بھی رہیں جلتے ہمارے جیسے
یاد آتی ہے گھڑی تجھ سے بچھڑنے کی ہائے
حشر کے بعد کوئی صُور پکارے جیسے
بھوک بے قابو انا حد سے بڑھ کر انکی
ہے یہ فرعون کا ہی نام "ادارے" جیسے
عشق گرداب ہے ایسا کہ طوافِ یاراں
کی تگ و دَو میں ہیں حائل یہ کنارے جیسے
بوئے گُل، سوزِشِ دل، موج کو ترسا ساحِل
بس بہانے ہیں تِری یاد کے سارے جیسے
کچھ محبّت کی رمق اُس میں ہے باقی دیکھو
سر قلم کر کے مِری زلف سنوارے جیسے
قرض اشکوں کا تھا آہیں بھی خلشؔ تھیں واجب
ہم نے مر کر ہیں وہ احسان اتارے جیسے
-خلشؔ مخفی
سعی سے نہ ہی کچھ دعا سے ملا
جنوں کی جو اس انتہا سے ملا
نہ قابل رہا پھر کسی بزم کے
جو خلوت میں اس کج ادا سے ملا
بس اک پھونک میں شمع گل ہو گئی
دھواں سا ہی مہر و وفا سے ملا
سدا ایک دھُن پر جو ناچے انھیں
ہے کیا "تو کُجا من کُجا" سے ملا
یہ آتش یہ ایندھن یہ زادِ سفر
خطا سے، پھر اسکی سزا سے ملا
سرِ بسترِ مرگ آیا نظر
کفن ہم کو جس کی عطا سے ملا
وہ ملبے تلے تر بتر خوں سے طِفل
عجب امتحاں تھا خُدا سے ملا
بغل گیر اُن سے خلشؔ جب ہُوئے
بدن آخر اپنی قَبا سے ملا
-خلشؔ مخفی
دل کے زنگ خوردہ تار
نہیں جن کو برسوں سے چھیڑا
آنسوؤں کی پھُوار
نہیں گالوں سے جو شناسا
آئی دل پر کبھی
کسی کونے میں جسے دبایا
رہ گیا تھا وہیں
اسی چوٹ کو ڈھانپے بیٹھا
سب خواب ہوں سچ یہ ضروری تو نہیں
کھو کر محبّت بھی ادھوری تو نہیں
ہاں، دو قدم ہی چل سکے اک ساتھ ہم
وہ اک سفر تھا زیست پوری تو نہیں
ارمانوں کی جن کرچیوں پر ہم چلے
کیوں داغ وہ اب تک ہیں یوں پاوں تلے
دل جل بجھا نہ راکھ میں کوئی شرر
یہ آگ پھر ایندھن بنا کیسے جلے
جب یاد کی شبنم ترے رخسار پر
چپکے سے آ جائے شبِ غم کے پہر
دھڑکن میں جب ہو اک کھٹک سی دم بدم
رخ موڑ کر تب ڈھونڈھنا روشن سحر
ان عقل کے پردوں کو آخر چیر کے
تہ خانے میں دل کے اگر پھر آ سکے
بھٹکی ہوئی ماہِ جنوں کی اک کرن
پسپا خرد جس سے ہو، نہ ہی دل رہے۔
-خلشؔ مخفی
جیسے کوئی شے ہو بازار میں
کسی گھر میں جا پہنچنے کا ارمان لگائے
میری دھڑکن کی دھمک
متواتر ضرب کسی کیل پر
پسِ پردہ ہے مجھ سے
نوشتئہ تقدیر ابھی
صحیح سمت بھلا ہے کون سی؟
کیا اُس کا کوئی نشان، کوئی سراغ ہو گا؟
(تھا موقع کھو دینے کا ڈر
سو ساتھیوں کی روِش کے تابع ہو کر)
کبھی جو گِرتی تھی بارش
اِک نو عمر کَلی کے رخسار پر
کرتی ہے بے محابا اب
اِس گورِ گُل کو بھی تر
بوندیں جو سجتی تھیں کبھی
جھُومر کی طرح جبینِ ناز پر
(چمک جس کی تھی وہ برق کہ جلا ڈالے
ہر خوابِ جوانی سے مخمور آنکھ کو!)
مرتکز ہیں اب فقط دلدلی قبر پر
اس کی گہرائی اور گرفت میں
موزوں اِضافہ کیے جاتی ہیں
اِک وحشتِ آسمانی سے
کس بے رحم روانی سے
وقت گزیدہ جو ہے اُس کا
قِلّتِ وقت مقدّر کیے جاتی ہیں
نہیں اِس پیکرِ بے جاں میں اب
سکّتِ نشو نُما نہ سہی
ہر ذی نفس پر مُسَلّط بھونڈے قاعدے سے
نہیں یہ ماورا* نہ سہی
پر انجام ایسا کہ آغاز پہ شرم آئے؟
ہر جُملہَ توصیفی پہ
ہر بوسہَ تقدیسی پہ
بادِ سحر بھی بس اب خاک اُڑاتی جائے
پھر "کہاں سے، کِس سبو سے کاسئہ پیری میں مَے آئے"**
-خلشؔ مخفی
بے محابا: بے خوف، بے دھڑک، بلا لحاظ
گورِ گُل: پھول کی قبر
مخمور: نشے میں چور، مست، مدہوش
مرتکز: برقرار، ثابت، زیادہ طاقت ور ، concentrated
ذی نفس: زندگی رکھنے والا/والی
ماورا: پرے، باہر
توصیفی: {صِفَت} تعریف یا خوبیاں بیان کرنے والا/والی
تقدیسی: {صِفَت} پاکیزگی یا پاکیزہ بنانے سے متعلق
باد: ہوا
سحر: طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت
* جناب ن۔ م۔ راشد کی پہلی کتاب کا عنوان۔
** جناب ن-م- راشد کی نظم "سبا ویراں" کا آخری مصرع۔
دل و روح و جاں سے کہو
فراق زدہ جگرِ سوزاں سے کہو
اک ذرّہِ محبّت بھی گر ہے باقی
خواہ بُریدہ زباں سے کہو
کہو دید مِری ہے طلوعِ آفتابِ دِگر
تیز دھڑکن کی میری سماعت منتظَر
روح پُر احساس، بدن محتاجِ مساس
اِک بوسہِ عشق بھاری شب ہائے قدر پر
نظر و صدا کی شِدّت نہ باقی
لمس میں ذرا بھی حِدّت نہ باقی
ماضی بابِ سیاہ ٹھہرا اورحال میں
کچھ بھی اِمکانِ جِدّت نہ باقی
کیسی محبّت کہ دُوری باعثِ تسکیں
کیا عشق جب خلشِ وصل ہی نہیں
لعنت سکوں پر جو ہو محبوب کے سوا
قہر دل پر جو آشنائے دھڑکنِ دلبر نہیں۔
-خلشؔ مخفی
نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...