Sunday, 21 December 2025

غزل - سعی سے نہ ہی کچھ دعا سے ملا

 غزل - سعی سے نہ ہی کچھ دعا سے ملا


سعی سے نہ ہی کچھ دعا سے ملا

جنوں کی جو اس انتہا سے ملا


نہ قابل رہا پھر کسی بزم کے

جو خلوت میں اس  کج ادا سے ملا


بس اک پھونک میں شمع گل ہو گئی

دھواں سا ہی مہر و وفا سے ملا


سدا ایک دھُن پر جو ناچے انھیں

ہے کیا "تو کُجا من کُجا" سے ملا


یہ آتش یہ ایندھن یہ زادِ سفر

خطا سے، پھر اسکی سزا سے ملا


سرِ بسترِ مرگ آیا نظر

کفن ہم کو جس کی عطا سے ملا


وہ  ملبے تلے تر بتر خوں سے طِفل

عجب امتحاں تھا خُدا سے ملا


بغل گیر اُن سے خلشؔ جب ہُوئے

بدن آخر اپنی قَبا سے ملا


-خلشؔ مخفی

غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب

  غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب وہ گریزاں سا افق رُخِ فردا کا فریب نہ برس ریگ پہ ابر تُو ہی چھاو...