Monday, 16 February 2026

نظم: تجدیدِ الفت

 نظم: تجدیدِ الفت


زندگی کے سبھی زیر و بم

ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم

ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو

ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو


دل میں گوشہ مگر ہے وہی 

لَو ہے کم خواہ، ہے تو سہی

آ  کہ تجدیدِ الفت کریں

تلخیاں سب بھی رخصت کریں


-خلشؔ مخفی

No comments:

Post a Comment

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...