نظم: تجدیدِ الفت
زندگی کے سبھی زیر و بم
ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم
ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو
ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو
دل میں گوشہ مگر ہے وہی
لَو ہے کم خواہ، ہے تو سہی
آ کہ تجدیدِ الفت کریں
تلخیاں سب بھی رخصت کریں
-خلشؔ مخفی
My fiction and non-fiction prose in English ناچیز کی اردو شاعری سے طبع آزمائی کے کچھ ثمرات۔
نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...
No comments:
Post a Comment