چُھو بھی لو
چُھو بھی لو
دل کے زنگ خوردہ تار
نہیں جن کو برسوں سے چھیڑا
چُھو بھی لو
آنسوؤں کی وہ پھُوار
نہیں ہو سکی گالوں سے جو شناسا
اک خراش سی
آئی دل پہ جو کبھی
کسی کونے میں جسکو تم نے دبایا
نہ مرہم ملا جب
تو بچپن کی مخمل سی چادر
سے اک چیتھڑا پھاڑ کر
اُسی سے وہ گھاو چھپایا
چڑھائی تھی شاید پھر اِک بھینٹ بھی تو
کھنکتی ہنسی کی
اِن آنکھوں کی ساری نمی کی
دیکھو شاید وہ بچہ
رہ گیاہے وہیں کہیں
اسی چوٹ کو ڈھانپے بیٹھا
صدا اسکو دو نارہا کر بھی دو نا
چُھو بھی لو، اب چُھو بھی لو نا
کچھ صدائیں جو دِل چِیر دیتیں
لفظ کچھ
تیر سے بڑھ کے جنکی چُبھن تھی
گونج اُن کی بھلا اب تلک کیوں
بھنور بن کے کھینچے چلی جا رہی ہے
کھینچے چلی جا رہی ہے
دِل کی سب نرمی
روح کی وہ گرمی
رونے کی ہی قُوّت
عشق کی بھی شِدّت
لمحہِ بے خودی میں مگر
آج بھی کیوں نکل جاتے ہیں پھر زباں سے
تیر اُسی ترکش کے
بیچ پھر کشمکش کے
بس اب اپنا ترکش گِرا دو
وہ مخمل کی بوسیدہ پٹّی--
بھنور میں اُسے بھی بہا دو
زخم سے اِتنے برسوں کی پیپ دھو نا
چھو بھی لو، اب چھو بھی لو نا
-خلشؔ مخفی
No comments:
Post a Comment