Friday, 22 August 2025

قتلِ خواب

 قتلِ خواب

سب خواب ہوں سچ یہ ضروری تو نہیں

کھو کر محبّت بھی ادھوری تو نہیں

ہاں، دو قدم ہی چل سکے اک ساتھ ہم

وہ اک سفر تھا زیست پوری تو نہیں


ارمانوں کی جن کرچیوں پر ہم چلے

کیوں داغ وہ اب تک ہیں یوں پاوں تلے

دل جل بجھا نہ راکھ میں کوئی شرر

یہ آگ پھر ایندھن بنا کیسے جلے


جب یاد کی شبنم ترے رخسار پر

چپکے سے آ جائے شبِ غم کے پہر

دھڑکن میں جب ہو اک کھٹک سی دم بدم

رخ موڑ کر تب ڈھونڈھنا روشن سحر


ان عقل کے پردوں کو آخر چیر کے

تہ خانے میں دل کے اگر پھر آ سکے

بھٹکی ہوئی ماہِ جنوں کی اک کرن

پسپا خرد جس سے ہو، نہ ہی دل رہے۔ 


-خلشؔ مخفی

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...