چُھو بھی لو
چُھو بھی لو نا
دل کے زنگ خوردہ تار
نہیں جن کو برسوں سے چھیڑا
چُھو بھی لو نا
آنسوؤں کی پھُوار
نہیں گالوں سے جو شناسا
اک خراش سی
آئی دل پر کبھی
کسی کونے میں جسے دبایا
وہ بچہ شاید
رہ گیا تھا وہیں
اسی چوٹ کو ڈھانپے بیٹھا
صدا اسکو دو نا
رہا کر بھی دو نا
چُھو بھی لو، اب چُھو بھی لو نا
-خلشؔ مخفی