Friday, 7 November 2025

چُھو بھی لو

 چُھو بھی لو

چُھو بھی لو نا
دل کے زنگ خوردہ  تار
نہیں جن کو برسوں سے چھیڑا
چُھو بھی لو نا
آنسوؤں کی پھُوار
نہیں گالوں سے جو شناسا

اک خراش سی
آئی دل پر کبھی
کسی کونے میں جسے دبایا
وہ بچہ شاید
رہ گیا تھا وہیں
اسی چوٹ کو ڈھانپے بیٹھا

صدا اسکو دو نا
رہا کر بھی دو نا
چُھو بھی لو، اب چُھو بھی لو نا

-خلشؔ مخفی

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...