Monday, 16 February 2026

نظم: تجدیدِ الفت

 نظم: تجدیدِ الفت


زندگی کے سبھی زیر و بم

ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم

ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو

ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو


دل میں گوشہ مگر ہے وہی 

لَو ہے کم خواہ، ہے تو سہی

آ  کہ تجدیدِ الفت کریں

تلخیاں سب بھی رخصت کریں


-خلشؔ مخفی

Thursday, 12 February 2026

غزل - ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں ستارے جیسے

 غزل - ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں


ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں ستارے جیسے

ڈھونڈھتے ہیں کسی مہ رُخ کو تمہارے جیسے


شمع تو لیتی ہے دم صبح کی آمد پر روز

کچھ کہ دن میں بھی رہیں جلتے ہمارے جیسے


یاد آتی ہے گھڑی تجھ سے بچھڑنے کی ہائے

حشر کے بعد کوئی صُور پکارے جیسے


بھوک بے قابو انا حد سے بڑھ کر انکی

ہے یہ فرعون کا ہی نام "ادارے" جیسے


عشق گرداب ہے ایسا کہ طوافِ یاراں

کی تگ و دَو میں ہیں حائل یہ کنارے جیسے


بوئے گُل، سوزِشِ دل، موج کو ترسا ساحِل

بس بہانے ہیں تِری یاد کے سارے جیسے


کچھ محبّت کی رمق اُس میں ہے باقی دیکھو

سر قلم کر کے مِری زلف سنوارے جیسے


قرض اشکوں کا تھا آہیں بھی خلشؔ تھیں واجب

ہم نے مر کر ہیں وہ احسان اتارے جیسے


-خلشؔ مخفی

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...