Saturday, 4 July 2026

غزل - ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے

 غزل - ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے

ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے

کیا کچھ ہے یہ دیکھتا کہ دل ہے


ہاتھوں میں حسیں کے چابُکِ ناز

اِتنا بھی نہ آزما کہ دل ہے


کیوں عقل و نظر کے ہم ہیں محتاج

آ سینے کے اندر آ  کہ دل ہے


صحرا میں بھی دیکھے موجِ دریا

پر بحر میں تشنہ سا کہ دل ہے


اُٹھتا ہے دمِ سحر جو شعلہ

اب جا کے پتہ چلا کہ دل ہے


اُلفت کی سکت رہی نہ اِس میں

بھر بھر کے یہ پھٹ گیا کہ دل ہے


کیوں رویا خلشؔ کسی کے دُکھ میں

اتنا ہی وہ کہہ سکا کہ دل ہے


-خلشؔ مخفی


فرہنگ

- جامِ جہاں نما:  دنیا دکھانے والا پیالہ۔  ایران کے بادشاہ جمشید کا پیالہ جس میں احوال عالم کا مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔
legendary magical goblet of the Persian king Jamshed in which he saw whatever he wished
بحر : دریا، سمندر، خلیج، کھاڑی
تشنہ:  پیاسا/پیاسی

No comments:

Post a Comment

غزل - ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے

  غزل -  ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے ہے جامِ جہاں نما کہ دل ہے کیا کچھ ہے یہ دیکھتا کہ دل ہے ہاتھوں میں حسیں کے چابُکِ ناز اِتنا بھی نہ آزما ک...