پیش لفط
ہزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں مزاحیہ یا مسخرے پن کے مضامین ہوں۔ عموماََ اِسے بے ہودہ کلام یا باتوں کی صنف کہا جاتا ہے۔ اِس لیے اِس میں یاوہ گوئی اور لغویات کا عنصر غالب رہتا ہے۔ اِس نظم میں جو بظاہر عورت مخالف (misogynist) تراکیب ہیں وہ اصل میں شاعر یا مشاہدہ کرنے والے پر مذاق ہیں، نہ کہ اُس (فرضی) خاتون پر جسکا تذکرہ ہو رہا ہے۔
ہزل
جو غور سے تو دیکھ لے آئینہ ایک بار
تو کر دے ٹکڑے اس کے اک ہزار
ان کِرچیوں کو پھِر تو چشمِ گنہگار میں
کھبوئے تا روزِ حشر دیوانہ وار
کہ آئینہ ہے محض عاکسِ ہو بہو
اُف، ظلمتِ مطلق پر یہ ضیائے خاردار!
پس بھرے سوجے ہوئے ترے رخسار
اور ان پے پھنسیاں یہ بے شمار!
ہر عضو ہی ترا،ہے چربی سے لدا
جو دیکھے سو حیران، جو پائے وہ زدِ بھار
ان کٹے گیسو تیرے مانندِ رَپُنزَل
بس وہ اسیرِ قلعہ، تُو قلعے کی دیوار!
عریاں ہوئے بازو ترے، کپکا میں اس قدر
لوتھڑے ہیں گوشت کے یا چربی کے کوہسار!
تناسب ترے بدن کا بھی محیّرالعقل
کھوپڑی اور دهڑ ترے شبیہِ ڈائناسار
کیا وقعت دوپٹہ و چادر و شال کی
ترے عظیم جُثّے کے آگے سبھی لاچار
چادر تری ہمیشہ پشت پر پڑی
فیشن هے یا حسنِ 'بے پناہ' پر حصار؟
روتی فقط ہزاروں سال ہے اقبال کی نرگس
تری بے نوری سے کیا دیدہ ور بھی ہے بیزار؟
فرہنگ
عاکسِ ہو بہو: جیسا ہے بالکل ویسے ہی اُسکا عکس دکھانے والا
ظلمتِ مطلق: مکمّل اندھیرا ، (absolute darkness)
ضیائے خاردار: کانٹوں والی روشنی
رَپُنزَل: ایک شہزادی جسکے بال لمبے تھے اور اُسے ایک قلعے میں قید کر دیا گیا تھا۔Rapunzel - Wikipedia
محیّرالعقل: عقل کو حیران کر دینے والا/والی
شَبِیہ: مثل، نظیر، ہم شکل
جُثّہ: جسامت، بدن، تن
حصار: دائرہ، گھیرا، حلقہ
No comments:
Post a Comment