Tuesday, 20 August 2024

جستجو

کیا عذابِ پیہم ہے جستجوئے نشاط
اضدادِ فطرت میں یہ کاوشِ اختلاط
گُلِ اِمروز کو خارِ فردا میں بدلتے دیکھیے
اور کیجیے عقلِ متغیّر سے تغیّر پر استنباط

اِک زمانہ ہوا دیکھا تھا فلکِ پُر نجوم
دُود و غبارِ ہستی میں جو اب ہے موہوم
طرارہَ رخشِ زیست کو دُور سے سراہیے
شکوہَ قلّتِ وقت و جاں میں زندگی معدوم

ذہنِ مضطرب کی جستِ دو جہاں چشم زدن میں
طلاطمِ افکار اور برق سی بدن میں
آسودگیِ غیر و خود  فقط براہِ فریب
گر چشم و گوش تابع تو انساں ہے عدن میں

کہتے ہیں ضرورت ہے مادرِ ایجاد مگر
وہی ہے باعثِ مفلوجی و ضرر
اِن بانجھ ضروریات والوں پربھی  اِک نظر 
ایک بارِ جامد، بڑھتا ہوا، مستقل سینوں پر

پھر ایک ہے راہِ تصوّف و سپردگی
کریں  ترکِ آرذو، پائیں فرار از افسردگی
عجب لذّت ہے اس ذاتِ سنگین کی فنا میں
کیا لطف مگر آرام کا، گر نہیں  زخم خوردگی

-خلشؔ مخفی

فرہنگ

پیہم: متواتر، لگاتار، مسلسل، تابڑ توڑ
نشاط: خوشی ، شادمانی؛ کیف و سرور؛  اُمنگ ، شوق 
اضداد: ضد کی جمع۔ opposites; contradictions
اختلاط: میل جول، ربط ضبط، مِلانا۔
اِمروز: آج کا دن۔(مجازاً) حال۔ 
خارِ فردا: آنے والے کل کا کانٹا۔
متغیّر: بدلا ہوا/ہوئی۔ تبدیل شدہ۔
تغیّر: تبدیلی
استنباط: معلوم باتوں سے نامعلوم بات دریافت کرنے کا عمل۔ inference
دُود: دھواں
موہوم: وہم کیا گیا، غیر اصلی
طرارہ: اچھال، چھلانگ
رخش: رستم کا گھوڑا جو سُرخ و سفید رن٘گ کا تھا، (مجازاً) گھوڑا
زیست: زندگی، عمر
چشم زدن:پلک جھپکنے  کا وقفہ، لمحہ بھر، ذراسی دیر
چشم و گوش: آنکھ اور کان
عدن: جنّت کا ایک باغ۔ Garden of Eden
جامد: جما ہوا، ٹھوس؛ رکا ہوا، ٹھپ؛ غیر نامی
 فرار از افسردگی: افسردگی سے فرار
سنگین: ۱:  پتھرسے بنا ہوا، پختہ؛ ۲:بھاری؛ ۳: سخت تکلیف دہ، اذیت ناک؛ ۴: شدید، سخت؛ ۵: کٹھن، مشکل
 زخم خوردگی: زخم کھانا یا زخم کھانے کا عمل۔

No comments:

Post a Comment

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...