غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب
ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب
وہ گریزاں سا افق رُخِ فردا کا فریب
نہ برس ریگ پہ ابر تُو ہی چھاوں ہے میری
کہ ہے لیلیٰ سے بھلا کبھی لیلیٰ کا فریب
تِرے جانے سے وہ دل کی تجلّی بھی گئی
نہ ہوا پھر ہمیں وادیِ سِینا کا فریب
یہ بہاریں یہ خزائیں کریں سجدہ تجھے
تِرے دم ہی سے تو ہے گُلِ رعنا کا فریب
دلِ گُم گشتہ ہے ڈھونڈھتا وہ بات کہ جو
نہ رکھے لفظوں کے پیچ نہ معنیٰ کا فریب
وہی ساقی، وہی جام تو کیوں تشنہ ہیں ہم
نظرِ یار سے ہی خُم و مینا کا فریب
سرِ آدم کو جھُکانے کے حربے ہیں یہ سب
کبھی حاکم کا عصا کبھی مُلّا کا فریب
شبِ تیرہ ہے کہ سایہ تِری زلف کا ہے
سحرِ وصل ہے بسکہ تمنّا کا فریب
نہ بھرو زخم مِرے یہ خزینہ ہیں مِرا
مُجھے رکھ لینے دو اپنے مسیحا کا فریب
جو پرندے پسِ شام نہ گھر لوٹیں خلشؔ
وہی رکھتے ہیں جواں من و سلویٰ کا فریب
-خلشؔ مخفی
No comments:
Post a Comment