تکرارِ بے جا
نئی صبح، ایک اور ہفتہ
گریں پلکیں، ذہن گرفتہ
نیا اِک دن تو ہے یہ بالکل
ہے پھر گو عکسِ روزِ رفتہ
بھلا کاج میں ندرت و معنی کیسے
مزے جیسا احساسِ لا یعنی کیسے
دھواں ہو کسی آگ کو جو بجھا کر
ندی میں وہ بہتا رہے پانی کیسے
زمین و زر کا پھر کریں کیا
خلاء میں روح کے بھریں کیا
مشقّت سالوں سال کر کے
مِلے فرصت تو پھر ڈریں کیا؟
رواں زر ہی سے قافِلہ زندگی کا
نہیں فکر کہ گھر میں کوئی ہے بھوکا
اگر پیٹ خالی ہو یا چھت ٹپکتی
خلاء چھوڑو ہم روح کا کر لیں سودا
یہ روح و جسم میں دوئی کیوں
کرائے پر ہے آدمی کیوں
جو پتھّر تھا دھکیلا اوپر
پڑا ہے قبر پر وہی کیوں
شرر لمحہ بھر کا ہی تو اپنی جاں ہے
جو ہو وقفِ آتش تو اسکی اماں ہے
پتنگے کی تکرار کا راز آخر
کشش شمع کی یا جو شعلہ نہاں ہے
-خلشؔ مخفی