Friday, 7 November 2025

چُھو بھی لو

 چُھو بھی لو

چُھو بھی لو نا
دل کے زنگ خوردہ  تار
نہیں جن کو برسوں سے چھیڑا
چُھو بھی لو نا
آنسوؤں کی پھُوار
نہیں گالوں سے جو شناسا

اک خراش سی
آئی دل پر کبھی
کسی کونے میں جسے دبایا
وہ بچہ شاید
رہ گیا تھا وہیں
اسی چوٹ کو ڈھانپے بیٹھا

صدا اسکو دو نا
رہا کر بھی دو نا
چُھو بھی لو، اب چُھو بھی لو نا

-خلشؔ مخفی

Monday, 22 September 2025

یاس - فیض احمد فیضؔ

یاس - فیض احمد فیضؔ

بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے

ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل

مٹ گئے قصّہ ہائے فکر و عمل!

بزمِ ہستی کے جام پھُوٹ گئے

چھِن گیا کیفِ کوثر و تسنیم

زحمتِ گریہ و بُکا بے سُود

شکوئہ بختِ نارسا بے سُود

ہو چکا ختم رحمتوں کا نزول

بند ہے مُدّتوں سے بابِ قبول

بے نیازِ دعا ہے ربِّ کریم

 بجھ گئی شمعِ آرزوئے جمیل

یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل

انتظارِ فضول رہنے دے

رازِ اُلفت نباہنے والے

بارِ غم سے کراہنے والے

کاوشِ بے حصول رہنے دے 

 

Monday, 15 September 2025

نظم: تکرارِ بے جا

 تکرارِ بے جا

نئی صبح، ایک اور ہفتہ
گریں پلکیں، ذہن گرفتہ
نیا اِک دن تو ہے یہ بالکل
ہے پھر گو عکسِ روزِ رفتہ

بھلا کاج میں ندرت و معنی کیسے
مزے جیسا احساسِ لا یعنی کیسے
دھواں ہو کسی آگ کو جو بجھا کر
ندی میں وہ بہتا رہے پانی کیسے

زمین و زر کا پھر کریں کیا
خلاء میں روح کے بھریں کیا
مشقّت سالوں سال کر کے
مِلے فرصت تو پھر ڈریں کیا؟

رواں زر ہی سے قافِلہ زندگی کا
نہیں فکر کہ گھر میں کوئی ہے بھوکا
اگر  پیٹ خالی ہو یا چھت ٹپکتی
خلاء چھوڑو ہم روح کا کر لیں سودا

یہ روح و جسم میں دوئی کیوں
کرائے پر ہے آدمی کیوں
جو پتھّر تھا دھکیلا اوپر
پڑا ہے قبر پر وہی کیوں

شرر لمحہ بھر کا ہی تو اپنی جاں ہے
جو ہو وقفِ آتش تو اسکی اماں ہے
پتنگے کی تکرار کا راز آخر
 کشش شمع کی یا جو شعلہ نہاں ہے

-خلشؔ مخفی

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...