Monday, 22 September 2025

یاس - فیض احمد فیضؔ

یاس - فیض احمد فیضؔ

بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے

ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل

مٹ گئے قصّہ ہائے فکر و عمل!

بزمِ ہستی کے جام پھُوٹ گئے

چھِن گیا کیفِ کوثر و تسنیم

زحمتِ گریہ و بُکا بے سُود

شکوئہ بختِ نارسا بے سُود

ہو چکا ختم رحمتوں کا نزول

بند ہے مُدّتوں سے بابِ قبول

بے نیازِ دعا ہے ربِّ کریم

 بجھ گئی شمعِ آرزوئے جمیل

یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل

انتظارِ فضول رہنے دے

رازِ اُلفت نباہنے والے

بارِ غم سے کراہنے والے

کاوشِ بے حصول رہنے دے 

 

No comments:

Post a Comment

غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب

  غزل - ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب ہے نظر کو سرِ آب بھی صحرا کا فریب وہ گریزاں سا افق رُخِ فردا کا فریب نہ برس ریگ پہ ابر تُو ہی چھاو...