Thursday, 22 August 2024

ہزل بنام ایک حسینہ

پیش لفط

ہزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس میں مزاحیہ یا مسخرے پن کے مضامین ہوں۔ عموماََ اِسے بے ہودہ کلام یا باتوں کی صنف کہا جاتا ہے۔ اِس لیے اِس  میں یاوہ گوئی اور لغویات کا عنصر غالب رہتا ہے۔ اِس نظم میں جو بظاہر عورت مخالف   (misogynist) تراکیب ہیں وہ اصل میں شاعر یا مشاہدہ کرنے والے پر مذاق ہیں، نہ کہ اُس (فرضی) خاتون پر جسکا تذکرہ ہو رہا ہے۔

ہزل

جو غور سے تو دیکھ لے آئینہ ایک بار
تو کر دے ٹکڑے اس کے اک ہزار

ان کِرچیوں کو پھِر تو چشمِ گنہگار میں
کھبوئے تا روزِ حشر دیوانہ وار 

کہ آئینہ ہے محض عاکسِ ہو بہو
اُف، ظلمتِ مطلق پر یہ ضیائے خاردار!

پس بھرے سوجے ہوئے ترے رخسار
اور ان پے پھنسیاں یہ بے شمار!

ہر عضو ہی ترا،ہے چربی سے لدا
جو دیکھے سو حیران، جو پائے وہ زدِ بھار

ان کٹے گیسو تیرے مانندِ رَپُنزَل
بس وہ اسیرِ قلعہ، تُو قلعے کی دیوار!

عریاں ہوئے بازو ترے، کپکا میں اس قدر
لوتھڑے ہیں گوشت کے یا چربی کے کوہسار!

تناسب ترے بدن کا بھی محیّرالعقل
کھوپڑی اور دهڑ ترے شبیہِ ڈائناسار

کیا وقعت دوپٹہ و چادر و شال کی
ترے عظیم جُثّے کے آگے سبھی لاچار

چادر تری ہمیشہ پشت پر پڑی
فیشن هے یا حسنِ 'بے پناہ' پر حصار؟

روتی فقط ہزاروں سال ہے اقبال کی نرگس
تری بے نوری سے کیا دیدہ ور بھی ہے بیزار؟

فرہنگ

عاکسِ ہو بہو: جیسا ہے بالکل ویسے ہی اُسکا عکس دکھانے والا
ظلمتِ مطلق: مکمّل اندھیرا ، (absolute darkness)
 ضیائے خاردار: کانٹوں والی روشنی
رَپُنزَل: ایک شہزادی جسکے بال لمبے تھے اور اُسے ایک قلعے میں قید کر دیا گیا تھا۔Rapunzel - Wikipedia
محیّرالعقل: عقل کو حیران کر دینے والا/والی
شَبِیہ: مثل، نظیر، ہم شکل
 جُثّہ: جسامت، بدن، تن
حصار: دائرہ، گھیرا، حلقہ

Tuesday, 20 August 2024

روبروئے آئینہ

کیا ہے تُو، کیا ہے بساط تیری
دم کشی سے پُر ہے ہر دن، ہر رات تیری
عقلِ ناقص اور غرور اُس پر ہیں کُل ذات تیری
جب وجود ہی تِرا ہے دلیلِ مات تیری
                      تیری حیثیت اِک حرفِ مکرر سے زیادہ کیا ہے
                     ہزاروں مہروں میں ایک تجھ سا پیادہ کیا ہے

تیرا عالم تو ہے ایسے سنگ تراش سا
خام ہے فن جس کا، ہاتھوں میں ارتعاش سا
بناکر بُت ہائے سرنگوں، دے  خود کو فریبِ فاش سا
اِک شعاعِ حق مگر کر دے یہ مندر پاش پاش سا
                    ترس آتا ہے چشمِ خود بین و زبانِ خود پرست پر
                    فقط اپنے ہاتھ کی بیت خلیفہَ خدا کے دست پر

تُو مثلِ مینڈک جائے ایک پتّے سے دوسرے پر
کہیں ٹھہرے دو گھڑی، کہیں بس پل بھر
تیری آتش کہ پلٹتی جائے سوئے دِگر
زنجیر پھر تِری بھلا پگھلے کیونکر
                    بھنورے کا حِرص نہیں، پروانے کی لگن چاہئیے
                    تخیّلِ مضطرب کو استقامت کا پیرہن چاہئیے

وہی دھکیلنا صبح کو بس شام کی طرف
تنِ سُست سے عاجز، چشمِ تماشائی کے ہاتھوں صَرف
نہ روح غذا پائے، نہ ذہن اِک فکر انگیز حرف
عرصہ سے جمود ہے طاری، نہ پگھلے یہ برف
                    جبلِ آتش فشاں تھا وجودِ بوسیدہ ہوا
                    یوں ہی طفلِ توانا پیرِ عمر رسیدہ ہوا

-خلشؔ مخفی

فرہنگ

بساط: ۱:طاقت، استطاعت، حیثیت۔ ۲: شطرنج کھیلنے کا تختہ۔ ۳:  اصل، حقیقت
دم کَشی: سان٘س لینے کا عمل، سان٘س کے اوپر چڑھنے کی کیفیت
دم کُشی: دم مارنہ مارنا یعنی سانس ضائع کرنا، (حقّے وغیرہ کا) کش لگانا، عذر/بہانہ کرنا
 ارتعاش: رعشہ، کپکی، بے اختیار لرزش
فاش: ظاہر، کھلم کھلا،اعلانیہ
چشمِ خود بین: اپنے آپ کہ دیکھنے والی آنکھ
کیونکر: کیسے
مضطرب: بے چین، درہم برہم
استقامت:  ثابت قدمی
صَرف: ۱:  خرچ ، استعمال۔ ۲:  تمام ، ختم ، بسر
عمر رسیدہ: عمر کا مارا ہوا

جستجو

کیا عذابِ پیہم ہے جستجوئے نشاط
اضدادِ فطرت میں یہ کاوشِ اختلاط
گُلِ اِمروز کو خارِ فردا میں بدلتے دیکھیے
اور کیجیے عقلِ متغیّر سے تغیّر پر استنباط

اِک زمانہ ہوا دیکھا تھا فلکِ پُر نجوم
دُود و غبارِ ہستی میں جو اب ہے موہوم
طرارہَ رخشِ زیست کو دُور سے سراہیے
شکوہَ قلّتِ وقت و جاں میں زندگی معدوم

ذہنِ مضطرب کی جستِ دو جہاں چشم زدن میں
طلاطمِ افکار اور برق سی بدن میں
آسودگیِ غیر و خود  فقط براہِ فریب
گر چشم و گوش تابع تو انساں ہے عدن میں

کہتے ہیں ضرورت ہے مادرِ ایجاد مگر
وہی ہے باعثِ مفلوجی و ضرر
اِن بانجھ ضروریات والوں پربھی  اِک نظر 
ایک بارِ جامد، بڑھتا ہوا، مستقل سینوں پر

پھر ایک ہے راہِ تصوّف و سپردگی
کریں  ترکِ آرذو، پائیں فرار از افسردگی
عجب لذّت ہے اس ذاتِ سنگین کی فنا میں
کیا لطف مگر آرام کا، گر نہیں  زخم خوردگی

-خلشؔ مخفی

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...