تدفین
کبھی جو گِرتی تھی بارش
اِک نو عمر کَلی کے رخسار پر
کرتی ہے بے محابا اب
اِس گورِ گُل کو بھی تر
بوندیں جو سجتی تھیں کبھی
جھُومر کی طرح جبینِ ناز پر
(چمک جس کی تھی وہ برق کہ جلا ڈالے
ہر خوابِ جوانی سے مخمور آنکھ کو!)
مرتکز ہیں اب فقط دلدلی قبر پر
اس کی گہرائی اور گرفت میں
موزوں اِضافہ کیے جاتی ہیں
اِک وحشتِ آسمانی سے
کس بے رحم روانی سے
وقت گزیدہ جو ہے اُس کا
قِلّتِ وقت مقدّر کیے جاتی ہیں
نہیں اِس پیکرِ بے جاں میں اب
سکّتِ نشو نُما نہ سہی
ہر ذی نفس پر مُسَلّط بھونڈے قاعدے سے
نہیں یہ ماورا* نہ سہی
پر انجام ایسا کہ آغاز پہ شرم آئے؟
ہر جُملہَ توصیفی پہ
ہر بوسہَ تقدیسی پہ
بادِ سحر بھی بس اب خاک اُڑاتی جائے
پھر "کہاں سے، کِس سبو سے کاسئہ پیری میں مَے آئے"**
-خلشؔ مخفی
فرہنگ
بے محابا: بے خوف، بے دھڑک، بلا لحاظ
گورِ گُل: پھول کی قبر
مخمور: نشے میں چور، مست، مدہوش
مرتکز: برقرار، ثابت، زیادہ طاقت ور ، concentrated
ذی نفس: زندگی رکھنے والا/والی
ماورا: پرے، باہر
توصیفی: {صِفَت} تعریف یا خوبیاں بیان کرنے والا/والی
تقدیسی: {صِفَت} پاکیزگی یا پاکیزہ بنانے سے متعلق
باد: ہوا
سحر: طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت
نوٹ
* جناب ن۔ م۔ راشد کی پہلی کتاب کا عنوان۔
** جناب ن-م- راشد کی نظم "سبا ویراں" کا آخری مصرع۔
No comments:
Post a Comment