Wednesday, 4 September 2024

ایک دوست کی سالگرہ پر

اے میرے رفیقِ دیرینہ
تِری چشمِ بینا ہو نم کبھی نہ
تیری بزم میں رہے سدا قائم
گردشِ خُم و ساغر و مِینا
طمانیت  مِلے  تجھےصوفیا سی
دانش تِری ہو رشکِ ابنِ سینا

صد مبارک یومِ  پیدائش
تیری آمد جہاں کی آرائش
دعا گو ہوں تُو پائے وہ خزانہ
جو نہیں محتاجِ بازار و نمائش
زندگی تِری ہو رنگ و نکہت سے پُر یوں
کہ اہلِ جنّت بھی کریں ستائش۔

-خلشؔ مخفی

No comments:

Post a Comment

نظم: تجدیدِ الفت

  نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...