ایک سفر
[۱]
ساکت تھا کھڑا انتظار میں
کہ جانے وہ گاڑی کب آئے
کِسی طرح جو مجھے منزل تک پہنچائے
جیسے کوئی شے ہو بازار میں
کسی گھر میں جا پہنچنے کا ارمان لگائے
ہر گزرتا لمحہ
گھڑی سے اتر کر جیسے
بن کر ایک بھاری پتھر سا
میرے کاندھوں پر دھر جائے۔
میری دھڑکن کی دھمک
متواتر ضرب کسی کیل پر
جو ہر چوٹ کے ساتھ
اُسے اور اندر دھنستی جائے
کتنے ہی لوگ میرے سامنے
روانہِ سفر ہوئے
تھی معلوم جنھیں اپنی راہ
لگائی جنھوں نے وہ بے باک جست
پاتے ہیں خود کو اب
منزل سے قریب تر
میں ہوں لیکن غریقِ تفکیر ابھی
پسِ پردہ ہے مجھ سے
نوشتئہ تقدیر ابھی
پاوَں منجمد ہیں لیکن
زیرِ پا ایک لو بھی
ہمّت ہے ڈگمگاتی مگر
اندر ایک آرذوئے نو بھی
یہیں پھنسے رہ جانے کا خوف بھی ہے
اور غلط سمت میں چل نکلنے کا اندیشہ بھی
صحیح سمت بھلا ہے کون سی؟
کیا اُس کا کوئی نشان، کوئی سراغ ہو گا؟
کیا میری یہ نظر
سکوت کی عادی،
یکسانیت کی پروردہ
دورانِ سفر اُس کو دیکھ پائے گی؟
انتظار و فکر کے گرداب میں
حرکت کے لیے اضطراب میں
(تھا موقع کھو دینے کا ڈر
سو ساتھیوں کی روِش کے تابع ہو کر)
دیکھی جس کے لیے سب سے لمبی قطار
اُسی گاڑی پر ہو کر سوار
کر لیا میں نے حاصل
اپنے سکوت سے فرار!
[۲]
تدبیر میری تھی
یا کچھ تقاضا "شوخئ تحریر" کا
مِل گئی کھڑکی والی نشست مجھے
بہار کی نرم دھوپ
میرے چہرے کو سہلاتی ہوئی
جیسے کِسی کمزور حِیلے سے ماں
طفلِ پریشاں کو بہلاتی ہوئی
ہوا کا ایک مستقل جھرنا
لاتا ہے کوئی پیغام میری منزل سے
اِک مانوس سی خوشبو، ایک ندائے دلگیر
دل میں نقش ہوتی ہوئی دھندلی سی اِک تصویر
مگر یہ ایک موڑ جو لیا گاڑی نے
سورج پلٹ گیا یک لخت میرے پیچھے
ہوا اب جوش سے خالی
محض اطراف پر ہٹتی ہوئی
اور یہ نام اِن اسٹیشنوں کے
کتنے اجنبی۔۔
زباں پر چُبھن سی چھوڑ جاتے ہیں۔
پر کیا اجنبیّت ہے دلیل کج راہی کی
یا طَے ہے اِس سے کم از کم
مِرے فرار کی کامیابی؟
کیا یہ میری راہِ منزل ہے؟
ایک ہمسفر سے جو پوچھا
نکلا وہ ناواقف میری زباں سے
ہزار کوشش کے باوجود
الفاظ ہمارے تھے معلق ہوا میں
ہمارے درمیان خلیج کو وسیع کرتے
دیواروں سے ٹکراتے،
خاموشی سے مرتے
[۳]
سورج کی سمت
کبھی میری طرف، کبھی مخالف
کھڑکی سے نظّارہ
کبھی کِشتِ سرسبز، کبھی میدانِ ویراں
کیسی تکرار ہے اِس ردّ و بدل میں
گویا یہ پٹڑی ہے ایک بڑا سا دائرہ
جس پر ہر شخص
اتر جاتا ہے ٹھیک صحیح جگہ
پا کر کچھ ان دیکھے اشارے،
کسی اندرونی قوّت کے سہارے
جو ہے تحت الشّعور، بالائے حواس
جس سے ہیں زندہ و قائم
حصولِ منزل کی آس
اور یہ سلسلہِ دائم
دل پہ چھائی ہے پھر ایک بار
وہی کپکپی، وہی بے یقینی
جو دورانِ انتظار تھی
جو تب وجہِ خلفشار تھی
بس ایک چھلانگ
مٹا سکتی ہے اِس سراسیمگی کو۔
مگر اب تو کسی اور گاڑی کا
امکان بھی نہ ہو گا
اور نہ سکّت ہے ایک نئے سفر کی
جنوں گُزِیدہ گر نہ ہو آدمی
تو کیا فکر ناکامی و ظفر کی
-خلشؔ مخفی
فرہنگ
جست: چھلانگ
خلفشار: کشمکش، الجھن، پیچ و تاب
کَج راہی: غلط راہ پر چلنا۔ٹیڑھے راستے پر چلنا۔ [کَج: ٹیرھا]
سراسیمگی: اِنتشار، دیوانگی کی کیفیَت، پریشانی۔
گُزِیدہ: [۱] کاٹا ہوا۔ ڈسا ہوا۔ [۲] چُنا ہوا، پسند کیا ہوا
No comments:
Post a Comment