کل اور آج میں رہے جب نہ کوئی فرق
سائے میں شام کے اُمنگِ نو روز غرق
اِک دائرہَ دائم میں جب قافلہَ حیات چلے
شوق و جستجو ختم، بس مقلّدِ عادات چلے
رکھیے گُلِ سوزاں سے بھلا کیا اُمیدِ عرق
گمان تھا شامِ طویل "مگر شام ہی تو ہے"
اب آسمانِ روشن بس اِک گام ہی تو ہے
وہ بوندیں اوس کی چمکتی تھی جِن میں شعاعِ اُمّید
یوں لے اُڑا فقط اِک پرتوئے خورشید
یہ الوداعِ شب و آمدِ سَحر، سب اِک دام ہی تو ہے
بوجھ انکہی تلخیوں کا اُٹھائے جاتے ہیں
دل شکنی کے ڈر سے دل کو بجھائے جاتے ہیں
دیدِ دلبر محض نشاطِ پارینہ کا نشان
اِس حشر سے پہلے بھی تھی اِک مسرّت کی آن
لحد میں ہوں کیڑے، باہر پھول سجائے جاتے ہیں
-خلشؔ مخفی
فرہنگ
نو روز: نیا دن
دائم: ہمیشہ قایم یا موجود رہنے والا
مقلّد: بغیر دلیل کے پیروی کرنے والا
سوزاں: جلنے والا، جلا ہوا، جلتا ہوا، بھڑکتا ہوا
گام: دونوں پاؤں کے درمیان کا فاصلہ، مراد: آدھ گز کا فاصلہ؛ (مجازاََ) بہت کم فاصلہ۔
پرتوئے خورشید: سورج کی روشنی، شعاع، یا جھلک۔
دام: جال ، پھندا .( تصوّف) دام گرفتاریْ عِشق کو کہتے ہیں۔
نشاط:خوشی ، شادمانی۔ کیف و سرور
پارینہ: گزرا ہوا ، قدیم
لحد: قبر کا وہ حصّہ جس میں مردہ رکھاجاتا ہے۔ قبر، مزار
No comments:
Post a Comment