My fiction and non-fiction prose in English ناچیز کی اردو شاعری سے طبع آزمائی کے کچھ ثمرات۔
Friday, 6 September 2024
جمود
Wednesday, 4 September 2024
ایک دوست کی سالگرہ پر
Tuesday, 3 September 2024
تدفین
تدفین
کبھی جو گِرتی تھی بارش
اِک نو عمر کَلی کے رخسار پر
کرتی ہے بے محابا اب
اِس گورِ گُل کو بھی تر
بوندیں جو سجتی تھیں کبھی
جھُومر کی طرح جبینِ ناز پر
(چمک جس کی تھی وہ برق کہ جلا ڈالے
ہر خوابِ جوانی سے مخمور آنکھ کو!)
مرتکز ہیں اب فقط دلدلی قبر پر
اس کی گہرائی اور گرفت میں
موزوں اِضافہ کیے جاتی ہیں
اِک وحشتِ آسمانی سے
کس بے رحم روانی سے
وقت گزیدہ جو ہے اُس کا
قِلّتِ وقت مقدّر کیے جاتی ہیں
نہیں اِس پیکرِ بے جاں میں اب
سکّتِ نشو نُما نہ سہی
ہر ذی نفس پر مُسَلّط بھونڈے قاعدے سے
نہیں یہ ماورا* نہ سہی
پر انجام ایسا کہ آغاز پہ شرم آئے؟
ہر جُملہَ توصیفی پہ
ہر بوسہَ تقدیسی پہ
بادِ سحر بھی بس اب خاک اُڑاتی جائے
پھر "کہاں سے، کِس سبو سے کاسئہ پیری میں مَے آئے"**
-خلشؔ مخفی
فرہنگ
بے محابا: بے خوف، بے دھڑک، بلا لحاظ
گورِ گُل: پھول کی قبر
مخمور: نشے میں چور، مست، مدہوش
مرتکز: برقرار، ثابت، زیادہ طاقت ور ، concentrated
ذی نفس: زندگی رکھنے والا/والی
ماورا: پرے، باہر
توصیفی: {صِفَت} تعریف یا خوبیاں بیان کرنے والا/والی
تقدیسی: {صِفَت} پاکیزگی یا پاکیزہ بنانے سے متعلق
باد: ہوا
سحر: طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت
نوٹ
* جناب ن۔ م۔ راشد کی پہلی کتاب کا عنوان۔
** جناب ن-م- راشد کی نظم "سبا ویراں" کا آخری مصرع۔
قہر
دل و روح و جاں سے کہو
فراق زدہ جگرِ سوزاں سے کہو
اک ذرّہِ محبّت بھی گر ہے باقی
خواہ بُریدہ زباں سے کہو
کہو دید مِری ہے طلوعِ آفتابِ دِگر
تیز دھڑکن کی میری سماعت منتظَر
روح پُر احساس، بدن محتاجِ مساس
اِک بوسہِ عشق بھاری شب ہائے قدر پر
نظر و صدا کی شِدّت نہ باقی
لمس میں ذرا بھی حِدّت نہ باقی
ماضی بابِ سیاہ ٹھہرا اورحال میں
کچھ بھی اِمکانِ جِدّت نہ باقی
کیسی محبّت کہ دُوری باعثِ تسکیں
کیا عشق جب خلشِ وصل ہی نہیں
لعنت سکوں پر جو ہو محبوب کے سوا
قہر دل پر جو آشنائے دھڑکنِ دلبر نہیں۔
-خلشؔ مخفی
فرہنگ
بُریدہ : کٹا ہوا/کٹی ہوئی
طلوعِ آفتابِ دِگر: دوسرا طلوعِ آفتاب (sunrise)
منتظَر: جِس کا انتظار کیا جا رہا ہو۔
مساس: ہاتھ سے چھونا، مس کرنا
لمس: کسی چیز کو ہاتھ وغیرہ سے چھونے کا عمل یا کیفیت
نظم: تجدیدِ الفت
نظم: تجدیدِ الفت زندگی کے سبھی زیر و بم ساتھ ہی طے ہیں کر سکتے ہم ہاں، نہیں وہ رہا میں نہ تُو ہیں کبھی اپنے ہی ہم عدو دل میں گوشہ مگر ہے و...
-
چُھو بھی لو چُھو بھی لو نا دل کے زنگ خوردہ تار نہیں جن کو برسوں سے چھیڑا چُھو بھی لو نا آنسوؤں کی پھُوار نہیں گالوں سے جو شناسا اک خراش ...
-
قتلِ خواب سب خواب ہوں سچ یہ ضروری تو نہیں کھو کر محبّت بھی ادھوری تو نہیں ہاں، دو قدم ہی چل سکے اک ساتھ ہم وہ اک سفر تھا زیست پوری تو نہیں...
-
غزل - ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں ختم ہو کر بھی چمکتے ہیں ستارے جیسے ڈھونڈھتے ہیں کسی مہ رُخ کو تمہارے جیسے شمع تو لیتی ہے دم صبح کی آمد پر رو...